دنیا کی آبادی کے 20 سے 30 فیصد حصے کے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جسکا مطلب دنیا بھر میں ایک سے ڈیڑھ ارب افراد ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہیں۔
بلدیہ عظمی کراچی کے ماتحت کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارڈ ڈیزیز ( کے آئی ایچ ڈی) میں بلد فشار خون کے عالمی دن کی مناسبت سے آگاہی واک و سیمینار میں کیا۔جس میں ڈاکٹرز سمیت سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔
سیمینار میں ایگزیکٹیو ڈایریکٹر کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارڈ ڈیزیز ڈاکٹر رفعت سلطانہ نے کہا کہ بلڈ فشار خون کا مرض بہت عام ہے۔ بدقسمتی سے عوام اس کا علاج سجیدگی سے نہیں کرواتے۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اینٹی بائیوٹیک کی طرح عوام بلڈ پریشر کے مرض کی ادویات لیتے ہیں لیکن جیسے ہی یہ بلڈ پریشر کم ہوتا ہے وہ دوبارہ ادویات لینا بند کردیتے ہیں۔
آج ہم نے بلد فشار خون کے عالمی دن کی مناسبت سے آگاہی واک اور سیمینار کا اہتمام کیا ہے،جس میں ہم نے طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کے مابین سوال و جواب کا سیشن بھی رکھا ہے تا کہ طبی ماہرین عوام میں اس کیفیت سے متعلق آگاہی پیدا کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ معمولات زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے،اگر اپنے معالج کی تجویز کے مطابق ادویات کی پابندی کی جائے تو یقینا یہ مرض لا علاج نہیں رہے گا۔یہ ایک خاموش قاتل ہے جس سے دل اور دماغ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس سے ہارٹ اٹیک،فالج اور بینائی بھی کمزور ہوجاتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ اگر مریض کی حالت تشویشناک ہوجائے تو فوری طور پر اسپتال لایا جائے جبکہ گھریلو نسخہ ایسی صورتحال میں خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
پروفیسر منصور احمد نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا مرض بلد فشار خون ہے۔ دنیا کی 20 سے 30 فیصد بالغ آبادی اس مرض میں مبتلا ہیں،جس کا مطلب ہے کہ دنیا میں ایک سے ڈیڑھ ارب افراد اس مرض کا شکار ہیں۔