Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

رمضان کا آخری عشرہ اور اعتکاف

 اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی  ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کی غرض سے مسجد میں قیام کرنے کو کہتے ہیں۔ جسکا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا , دنیا سے منہ موڑنا اور رحمتِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونا ہے.

علماء کرام کے مطابق معتکف کی مثال ایسے بیان کی گئی ہے گویا کوئی شخص کسی کے در پر آکر پڑجائے کہ جب تک مقصود حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک نہیں لوٹوں گا

اعتکاف کی تین اقسام ہیں

سنت اعتکاف ، جو رمضان کریم کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرنا رسول اللہ ﷺ کی مستقل سنت ہے،

مستحب اعتکاف جس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں , بلکہ جتنا وقت بھی مسجد میں کوئی ٹہرے تو اعتکاف ہوگا اگر چہ تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو, علماء کرام کے مطابق افضل یہ ہے کہ آدمی مسجد میں داخل ہوتے ہی اعتکاف کی نیت کر لے تو نماز اور نفل وغیرہ کے ثواب کے ساتھ ساتھ اعتکاف کا ثواب بھی ملتا رہے گا۔

تیسری قسم واجب اعتکاف ہے۔ جس سے مراد وہ اعتکاف  ہے جس کے کرنے کی کسی شخص نے نذر مان لی ہو۔ مثلا یہ کہ

اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اعتکاف کروں گا، واجب اعتکاف کے لئے روزہ بھی شرط ہے، بغیر روزہ کے یہ اعتکاف صحیح نہ ہوگا۔

اعتکاف کی سب سے افضل جگہ مسجد الحرام ہےاسکے علاوہ ہر اس مسجد میں اعتکاف کیا جاسکتا ہے جہاں پانچ وقت اور جمعہ کی باجماعت کا انتظام ہو۔ خواتین گھر کے کسی کمرے میں جگہ مختص کر کے اعتکاف کرسکتی ہیں

سنت اعتکاف 20 رمضان المبارک کو غروب آفتاب سے قبل اعتکاف کی نیت سے شرعی مسجد میں بیٹھنے سے شروع ہوتا ہے

یہ اعتکاف شوال کا چاند نظر آنے تک جاری رہتا ہے چاہے 29 رمضان کو عید کا چاند نظر آئے یا 30 رمضان کو آفتاب غروب ہو جائے تو مسنون اعتکاف ختم ہو جاتا ہے ۔پھر معتکف مسجد سے نکل سکتا ہے۔

Share this news
Follow Times of Karachi on Google News and explore your favorite content more quickly!
جواب دیں
Related Posts