سینیٹ پولنگ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کےشیڈول کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبوں سے سینیٹ کی خالی 48 نشستوں کے لیے 2 اپریل2024ء کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ ہوگی جسکی بظاہر تیاری مکمل ہے۔ پنجاب میں جنرل، جبکہ  بلوچستان میں تمام نشستوں پر مختلف جماعتوں اور آزاد امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔ 


پارلیمنٹ آف پاکستان 

پارلیمینٹ آف پاکستان بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے، یعنی سینیٹ آف پاکستان (ایوان بالا)  اور قومی اسمبلی (ایواں زریں)، آئینی ترامیم کے لئے دونوں ایوانوں کی الگ الگ دوتہائی اکثریت لازمی ہے تاہم عام قانون سازی کیلئے الگ الگ ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت یا  مشترکہ اجلاس میں موجود ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہے۔  صدر پاکستان کے خلاف مواخذے کے لئے بھی پارلیمینٹ آف پاکستان (سینیٹ اور قومی اسمبلی) کی دوتہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

سینیٹ کا قیام

سینیٹ آف پاکستان کی تشکیل  1973ء کے آئین کے تحت ہوئی اور سینیٹ کا پہلا انتخاب 6 اگست 1973ء کو ہوا جو 45 نشستوں کےلئے تھا۔ 1973ء کے آئین کے تحت پارلیمانی نظام میں سینیٹ آف پاکستان کی اپنی اہمیت ہے، تاہم اختیار کے حوالے سے سب سے زیادہ بہتر پوزیشن  2010ء میں اٹھارویں ترمیم کے بعد بنی ہے۔

وفاق کی علامت

سینیٹ آف پاکستان وفاق کی علامت ہے کیونکہ چاروں صوبوں کو برابری کی بنیاد پرنمائندگی دی گئی ہے جبکہ قومی اسمبلی  میں نشستوں تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہے اور سینیٹ کی تشکیل کا بنیادی مقصد بھی آبادی کی اس تفریق کو ختم کرنا تھا۔

ممبران سینیٹ 

ابتدائی طور پر سینیٹ میں نشستوں کی تعداد 45 تھیں جو 1977ء میں 63 کردی گئیں۔ 1985ء میں 87، 2002 میں 100، 2010ء میں 4 اقلیتی  نشستوں (ہر صوبے کی ایک نشست) کا اضافہ کرکے 104 اور 2018ء میں فاٹا کی 8 نشستیں کم کرکے 96 کردی گئیں تاہم 2018ء میں 104 نشستوں کے لئے پولنگ ہوئی اور آئین میں واضح کردیا گیا کہ فاٹا انضمام کے بعد فاٹا کی 8 نشستیں ختم ہونگی اور 2018ء کا فاٹا آخری الیکشن ہوگا۔ 


سینیٹ غیر فعال 

سینیٹ آف پاکستان اپنے قیام سے اب تک مجموعی طور پر 3 ادوار میں غیر فعال رہا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء میں 1977ء سے 1985ء تک، جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء میں 1999ء سے 2003ء اور اب 12 مارچ 2024ء سے نئے ارکان اور چیئرمین و وائس چیئرمین کے انتخاب تک غیر فعال رہے گا۔

موجودہ سینیٹ ایوان

سینیٹ آف پاکستان (ایوان بالا) اب مجموعی طور پر 96 ارکان پر مشتمل ہے جن میں سے ہر صوبے کی نمائندگی 23، 23 ارکان جبکہ وفاق کی نمائندگی 4 ارکان کی ہے۔ ہر صوبے میں 14 جنرل، 4 خواتین، 4 علماء و ٹیکنوکریٹ اور ایک نشست اقلیت کی ہے۔ وفاق میں 2 جنرل، ایک خاتون اور ایک علماء و ٹیکنوکریٹ کی نشست  ہے۔

سینیٹ ممبران کی مدت

سینیٹ آف پاکستان کے رکن کی آئینی مدت 6 سال ہے اور ہر3 سال بعد نصف ارکان اپنی 6 سالہ مدت مکمل کرکے ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں۔ اس بار بھی 11 مارچ 2024ء کو سینیٹ کے 52 ممبران ریٹائر ہوگئے ہیں تاہم 2 اپریل کو انتخاب 48 نشستوں کے لئے ہوگا (کیونکہ فاٹا کے صوبہ خبیر پختونخوا میں انضمام کے بعد فاٹا سینیٹ ممبران کا 2018ء کو آخری انتخابات اور یہ نشستیں اب ختم ہوگئی ہیں)، جن میں سے  ہر صوبے میں جنرل 7، علماء و ٹیکنوکریٹ 2 اور خواتین کی 2 نشستیں ہیں، جبکہ  پنجاب اور سندھ میں ایک ایک اقلیتی نشست بھی ہے اور وفاقی دارالحکومت  اسلام میں ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست  ہے۔ 

 
سینیٹ حلقہ انتخاب

وفاقی دارلحکومت کی سینیٹ نشستوں کا انتخاب ارکان قومی اسمبلی، جبکہ صوبوں کی سینیٹ نشستوں کا انتخاب صوبائی اسمبلی کے ممبران کرتے ہیں۔ سینیٹ انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ہر ممبر کا ووٹ ہر کیٹگری میں 100 پوائنٹس شمار ہوتا ہے اور طریقہ انتخاب ہر کیٹگری میں واحد قابل منتقلی  ووٹ ہے۔ 

سینیٹ  ووٹ اور حساسیت 

سینیٹ انتخابات میں ووٹر کو یہ حق حاصل ہے کہ  وہ متعلقہ کیٹگری کی نشستوں کی تعداد کے حساب سے اپنی ترجیحات کا اندراج کرسکتا ہے تاہم مخصوص جگہ پر پہلی ترجیح (انگریزی عدد یعنی "1")  کا اندراج نہ کرنے یا متعلقہ کیٹگری کی نشستوں کی تعداد سے زائد ترجیحات کے اندراج  پر پورا ووٹ مسترد ہوگا۔ 

اسی طرح انگریزی عدد کے سوا کسی اور زبان کا عدد یا عبارت یا حروف، یا درست کی نشانی یا کراس یا کوئی لفظ یا عبارت یا نشانی یا دستخط یا پولنگ بوتھ پر موجود مخصوص قلم کے سوا کسی اور قلم کا استعمال ہو تو تب بھی ووٹ مسترد ہوتا ہے۔

قابل منتقلی ووٹ اورپوائنٹس 

سینیٹ انتخابات میں پوائنٹس کی اتنی اہمیت ہے کہ بعض اوقات  ترجیحات کے ذریعے ملنے والے پوائنٹس کی بنیاد پر کم ووٹ والا کامیاب اور زیادہ ووٹ والا امیدوار ناکام ہوتا ہے۔ 

یعنی  اگر "اے" کو 10 ممبران نے پہلی ترجیح کا ووٹ دیا اور اس کے 1000 پوائنٹس بنے،  دوسری جانب "بی" کو 9 ممبران  نے پہلی ترجیح ووٹ دیا اور اس کے پوائنٹس 900 بنے،  اب "بی" کو دیگر پینل سے ترجیحات کی بنیاد پر  101 یا اس سے زائد پوائنٹس ملے تو "اے"  ناکام اور "بی" کامیاب قرار پائے گا۔

ترجیحات کا کردار

سینیٹ انتخابات کے نتائج  کا اعلان کاسٹ ووٹ میں سے کل درست  پوائنٹس (ووٹ) کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ درکار کوٹہ مقرر کردیا جاتا ہے اور پھر گنتی کے دوران ترجیحات   کے حساب سے نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس دوران بعض اوقات  ایک امیدوار کے ووٹ ٹیکنیکل بنیاد پر اس کے مخالف امیدوار کو بھی منتقل ہوجاتے ہیں ۔ 

انتخابی حکمت عملی 

اس لئے سیاسی جماعتیں انتہائی مخفی طریقے سے نشستوں کی تعداد کے حساب سے ممبران پر مشتمل پینلز بناکر انکی ترجیحات کابھی متعین کرتی ہیں اور امیدوار ووٹرسے پہلی سے اس کیٹگری کی آخری ترجیح کے ووٹ تک کا مطالبہ کرتے ہیں۔  

ماضی میں خردیدوفروخت کے حوالے سے ترجیحات کے حساب سے الگ الگ ریٹ کا بھی ذکر آتا رہا ہے،  مثلاً فل ووٹ (تمام کیٹگریوں اور ترجیحات) کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے، اس کے بعد پہلی ترجیح، پھر دوسری اور اسی طرح جس کیٹگری کی جتنی نشستیں  ہیں اتنی ترجیحات ہوسکتی ہیں اور ترجیحات کے ساتھ ریٹ میں بھی کمی کا ذکر بھی آتا رہا ہے۔

رپورٹ اور چارٹ

رپورٹ میں شامل چارٹ میں حلقہ انتخاب یعنی متعلقہ اسمبلی میں موجودہ ارکان اور پوائنٹس کی پارٹی پوزیشن شامل کی گئی ہے۔