وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ  نے کہاہے کہ نگران صوبائی کابینہ کے تمام فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے گی،  رمضان پیکج کے تحت سندھ میں 44 لاکھ 13 ہزار 584 غریب خاندانوں میں کو 5 ہزار امداد دی جائے گی ، یہ خاندان سندھ کی آبادی کے تقریباً  60 فیصد ہیں ،  امداد کی تقسیم کے لئے  بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی فہرست سے مدد لی جائے گی اور ہم  اپنے طور پر بھی فہرست تیار کرتے ہیں۔سندھ کے عوام نے  ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی کو بھاری منڈیٹ دیاہے ، 168 اکنی ایوان میں اس وقت ہمیں  116 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور ہمارا ایک رکن کا عام انتخابات کے بعد انتقال ہوا ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کیس میں سپریم کورٹ کی رائے   یہ جمہوریت پسند لوگوں کی کامیابی ہے ۔   صوبے میں امن و امان کے قیام کے لئے ضروری اقدام کر رہے ہیں۔ زخیرہ اندوز اور مہنگائی فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وزیراعلیٰ ہائوس پریس کانفرنس میں کیا ۔ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد یہ انکی پہلی پریس کانفرنس تھی  ، اس موقع پر مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی بھی موجود تھے۔  سید مراد علی شاہ   نے کہاکہ قانون کے مطابق نگران حکومت ایسا کوئی کام نہیں کر سکتی جس کا اسے اختیار نہ ہو، پچھلی حکومت کے کاموں کو بھی نگران کابینہ نہیں چھیڑ سکتی تھی۔ اگر  قانون اور قوائد وضوابط سے ہٹکر کوئی ایسا فیصلہ  ہوا ہے تو  نگراں حکومت کے ایسے تمام  فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے گی۔الیکشن کمیشن نے ہماری اسکیمیں روک دیں تھیں، یہ الیکشن کمیشن کا کام نہیں تھا۔

انہوں نے کہاکہ امن و امان کی صورتحال شہروں میں بہتر ہے نہ دیہی و کچے کے علاقے میں، امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنا حکومت کا کام ہے، پولیس میں کچھ تبدیلیاں کی جارہی ہیں جس پر مشاورت جاری ہے۔

مہنگائی کنٹرول کرنا بھی حکومت کا ہی کام ہے، ہم نے رمضان پرائس کنٹرول اور ذخیرہ اندازوں کے خلاف کام شروع کر دیا ہے، میں خود اس مہم کی نگرانی کروں گا، اگر انتظامیہ قابو نہیں کر سکی تو انتظامیہ کو سزا ملے گی۔


ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ کا کہنا تھا کل آصف زرداری واضح اکثریت سے صدر منتخب ہو جائیں گے، اتوار کو نئے صدر کی تقریب حلف برداری ہو گی، اس کے بعد سندھ اور بلوچستان کی کابینہ بھی بن جائیں گی، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کر کے کابینہ تشکیل دیں گے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومت سازی سے متعلق قائم کمیٹی وزارتوں کا فیصلہ کرے گی۔


وزیر اعلیٰ سندھ نے کہاکہ  مہنگائی کو کنٹرول کرنا حکومت کا کام ہے ۔ہم نے رمضان پیکج کا اعلان کیا ہے۔ہم نے گزشتہ برس سے فیصلہ کیا تھا۔ہم ہمیشہ بچت بازار لگاتے تھے ۔اس بار یوٹیلیٹی اسٹورز سپورٹ کرنے کا سوچا تھا، گزشتہ سال بے نظیر انکم سپورٹ کے ڈیٹا بیس پر ہم نے ایک اسکیم چلائی تھی ۔ایک شخص کی عزت نفس مجروح کیے بغیر ان کو  پیسے مل گئے ۔اس سال مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ اس سال ہم فی خاندان 5 ہزار روپے نقد فراہم کر رہے ہیں ۔ یہ امداد سندھ میں 44 لاکھ 13 ہزار 584 خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی اور ان خاندانوں کے افراد کی تعداد سندھ کی مجموعی آبادی کا 60 فیصد بنتی ہے۔یہ امدادی اسکیم 22 ارب روپے سے  زائد کی ہے۔یہ  پیسےشفافیت کے انداز سے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ ہم نے اینٹی  ہوڈنگ ایکشن پلان بنایا ہے، ہم نے گزشتہ برس ایک قانون بھی بنایا تھا، ضلعی انتظامیہ کو ہدایات کی ہے، جو ہوڈرز  قیمتیں زائد لیتے ہیں ان کے خلاف مہم چلائی جائے، ہم نے بہت سے لوگوں کے خلاف ایکشن بھی لیا تھا اور اب بھی لیں گے۔

ایک سوال پر کہاکہ امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے، شہروں اور کچے کے علاقوں میں پرفارمینس  اچھی نہیں ہے اور میں  کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں، کچھ تبدیلیاں ایڈمنسٹریشن میں ضرور لائی جائیں گی، کچھ دنوں میں کابینہ بھی تشکیل ہو جائے گی ، تنقید کو ویلکم کرتا ہوں ۔ 


سید مراد علی شاہ نے کہاکہ کل آصف علی زرداری صدر پاکستان ہوں گے اور اتوار کو حلف اٹھا لیں گے ، جس کے بعد سندھ اور بلوچستان کابینہ بھی بن جائے گی۔

Written By عبدالجبار ناصر

عبدالجبار ناصر 1997 سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے روزنامہ دنیا، روزنامہ اسلام، روزنامہ اساس، این این آئی سمیت کئی اخبارات میں سیاسی، مذہبی، پارلیمانی رپورٹر سمیت تجزیہ نگار، مضمون نگار، چیف رپورٹر اور ڈپٹی چیف رپورٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ عبدالجبار ناصر نے الیکشن رپورٹنگ ٹرینر کے طور پر بھی کراچی پریس کلب اور آئی بی اے شعبہ سی ای جے میں خدمات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے صحافتی انجمنوں میں بھی اہم ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔