سپریم کورٹ نے 8 فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج کردی۔ عدم پیشی پر درخواست گزار پر جرمانہ بھی عائد کردیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 8 فروری کے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ علی خان کے گھر پولیس بھی گئی وزارت دفاع کے ذریعے نوٹس بھی بھیجا، علی خان گھر میں نہیں ہیں اور نوٹس ان کے گیٹ پر چسپاں کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ علی خان کون ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ سابق بریگیڈیئر ہیں جن کا 2012 میں کورٹ مارشل ہوا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ 19 فروری کو ہمارے آفس کو ایک ای میل آئی ہے وار یہ ای میل ویری فیکشن برانچ کو علی خان کی جانب سے بھیجی گئی جس میں علی خان نے بتایا کہ میں بیرون ملک ہوں۔ 13 فروری کو قطر ایئر ویز کا ٹکٹ لے کر دوحا اور پھر بحرین چلے گئے، عجیب بات ہے درخواست دائر کی اور دوسرے دن بیرون ملک چلے گئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس ای میل کے بارے ہماری برانچ نے بھی کنفرمیشن کی کہ وہی شخص ہے، درخواست گزار نے ای میل میں لکھا ہے کہ ملک سے باہر ہوں اور درخواست گزار نے ای میل میں درخواست واپس لینے کی استدعا کی ہے، علی خان نے لکھا ہے کہ بیرون ملک ہونے کے وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتا جبکہ ای میل میں بورڈنگ پاس، ٹکٹ اور بحرین جانے کے تمام سفری دستاویزات لگائے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دستاویزات کے مطابق درخواست گزار دوحہ سے کنکٹنگ فلائیٹ لیکر بحرین گیا، عجیب آدمی ہیں سستا ہونے کے باعث لوگ ریٹرن ٹکٹ لیتے ہیں انھوں نے ون وے ٹکٹ لیا، لگتا ہے علی خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے ’’پبلسٹی اسٹنٹ‘‘ کھیلا ہے۔

درخواست گزار کی عدم پیشی پر عدالت نے درخواست کو خارج کردیا۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کی عدم پیشی پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کیس کی سماعت کے آغاز پردرخواست گزار کی جانب سے درخواست واپس لینے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور ہر صورت کیس سننے کا کہا تھا۔

Written By ویب ڈیسک

ٹائمز آف کراچی کے ویب ڈیسک ذریعے مختلف موضوعات پر خبریں شائع کی جاتی ہیں۔ جو سیاست، معاشرے، ثقافت اور تفریح ​​سمیت متعدد موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔