اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق  ملک بھر میں شرح سود 22 فیصد پر برقرار رہے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اندازہ لگایا کہ مالی سال 24 کی دوسری ششماہی میں افراط زر میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال نومبر میں مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد پر تھی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی سے اکتوبر 2023 تک 1.06 ارب ڈالرز رہا، رواں مالی سال پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی نمو میں بہتری دیکھی گئی۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے مقابلے میں نومبر میں مہنگائی کی شرح بڑھی ہے، رواں مالی سال آخری 6 ماہ میں مہنگائی کی شرح میں کمی متوقع ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025 کے آخر تک مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد تک رہنے کی توقع  ہے، مالی سال 2024 کے دوران حقیقی جی ڈی پی کی بحالی معتدل رہنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ زراعت کے شعبے مین بہتری دیکھی جارہی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں بہتری ہوئی ہے، جولائی 23 سے اکتوبر 23 کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 65.9 فیصد کمی سے 1.10 ارب ڈالر رہ گیا۔

اعلامیے کے مطابق درآمدات کم تاہم برآمدات غذائی اشیا خصوصاً چاول کی وجہس ے تھوڑی بڑھیں، بینکنگ چینل سے رقم کی آمد، حکومتی اقدامات سے روپے کی قدر میں بہتری ہوئی۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کا بڑا فرق ختم ہوگیا ہے، اکتوبر، نومبر میں پچھلے سال کی ترسیلات زر بہتر رہی ہے۔

Written By ویب ڈیسک

ٹائمز آف کراچی کے ویب ڈیسک ذریعے مختلف موضوعات پر خبریں شائع کی جاتی ہیں۔ جو سیاست، معاشرے، ثقافت اور تفریح ​​سمیت متعدد موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔