کرغستان میں نہ کوئی پاکستانی جاں بحق ہوا نہ ہی کسی طالبہ سے زیادتی ہوئی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم نے کہا کہ واپسی کے خواہشمند طلبا کو حکومت اپنے خرچے پر لائے گی۔ آج بھی تین پروازوں سے پانچ سو چالیس طلبا واپس آ رہے ہیں ۔ حالات قابو میں ہیں ۔ سفارتخانے نے بھی حالات پرامن ہونے کی تصدیق کر دی۔ بشکیک میں11ہزارکے قریب پاکستانی طلبا زیرتعلیم ہیں، پاکستان واپس آنےوالوں کومکمل سہولیات فراہم کریں گے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ طلبا بشکیک سے نکلنا چاہتے ہیں توہم تیارہیں، بشکیک سے واپس آنے والے طلبا سفارتخانے میں اپنے نام لکھواسکتے ہیں، یقین دہانی کراتاہوں بشکیک میں کوئی خوفناک صورتحال نہیں، کرغزحکام نے درخواست کی کہ ہم پر اور اپنے سفیر پر بھروسہ رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرغز وزیرخارجہ نے باربار کہا گھبرانےکی ضرورت نہیں، واقعہ میں ملوٖث افرادکوسزاکی یقین دہانی کرائی گئی ہے، کرغز وزیرخارجہ نے بتایا کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانی طلباکی ہلاکت سےمتعلق جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں، ہمیں گھٹیا سیاست سے باہرنکلنا ہوگا، ہرملک میں کچھ عناصر اس طرح کے منفی ایجنڈے رکھتے ہیں، کرغزستان میں بھی ہمارے ملک جیسی بیماری ہے۔ کرغزوزیرخارجہ نے کہا سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں چلائی گئیں۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ کرغز وزیرخارجہ کے مطابق اپوزیشن جماعتیں غیرملکی طلبا کیخلاف ہیں، بشکیک واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا، کرغزوزیرخارجہ کےمطابق صورتحال پر امن ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم نے خود بھی کرغزستان میں پاکستانی سفیرسےبات کی، کرغز وزارت خارجہ سے بھی مسلسل رابطے میں تھے، کرغزصدر سے سفارتخانے کے ذریعےرابطہ تھا، لمحہ بہ لمحہ صورتحال کا جائزہ لیا جاتارہا، وزارت خارجہ میں ایمرجنسی یونٹ قائم کیا گیا۔ وزیراعظم بشکیک معاملے کو ذاتی طور پر دیکھ رہے ہیں۔

Spread the love
جواب دیں
Related Posts